تاریخ ساز موقع
کبھی
تعمیر میں تخریب پنہاں ہوتی ہے اور بسا اوقات یوں بھی ہوتا ہے کہ تخریب میں کچھ امکان
تعمیر کا موجود رہے ۔ البتہ اسے پانے کے لیے ، بروئے کار لانے اور حقیقی فائدہ اٹھانے
کے لیے دور اندیش نظر، عمل کی یکسوئی اور ذاتی مقاصد کی قربانی درکار ہوتی ہے۔ جو یہ
کر گزرتے ہیں وقت ان کے اس کارنامے کو محفوظ کر لیتا ہے تاکہ وہ آنے والے ہر دور میں
مشعل راہ کا کام دیتا رہے۔ اس سب کو ہم "تاریخ" کے نام سے جانتے ہیں۔
اہل
مغرب کے ماضی کا مطالعہ ہمیں یہ بتاتا ہے کہ "نشاۃ ثانیہ" کا ایک اہم حصہ
تاریخ کی "تشکیل نو" سے متعلق تھا۔ یہاں یہ وضاحت لازم ہے کہ اس تشکیل نو
کا مرکز ماضی کو بدلنا نہیں تھا، ماضی نہیں بدلا جا سکتا اور نہ ہی اس کی کوشش کرنا
چاہیے کہ یہ نہ صرف کارِ عبث ہے بلکہ بے عملی پر آمادہ کر کے مستقبل کی راہ بھی کھوٹی
کر دیتا ہے ۔ مغرب کا عہد خود سے یہ تھا کہ جو ہؤا سو ہؤا، اب آنے والے کل میں کسی
صورت اس کا اعادہ نہیں ہو گا۔ ہر دن بہتر سے بہتر کی کوشش جاری رہے گی کیونکہ جو آج
کا عمل ہے وہ سو سال بعد کی تاریخ ہے۔ ہماری تاریخ ہمارے ہاتھ میں ہے اور اس کی سمت
ہمارے ان فیصلوں سے متعین ہو گی جو آج کے دن ہمیں کرنا ہیں۔ جب ذمہ داری کا یہ احساس
دامن گیر رہے تو فیصلہ ساز قوتوں کے اطوار اور قوم کی تقدیر، دونوں بدل جاتے ہیں۔ ان
کی خیرہ کن ترقی اور خوشحالی اسی کا ثبوت ہے۔
مشکل
حالات صرف ہمیں درپیش نہیں ۔ مشکلات دراصل ان چیلنجز کا نام ہے جو ہر قوم کے سامنے
وقتاً فوقتاً آتے رہتے ہیں۔ کچھ کی وجہ بین الاقوامی معاملات ہوتے ہیں اور کچھ کا تعلق
داخلی حقائق اور تضادات سے ہوتا ہے۔ نیز بہت سے چیلنجز وہ ہیں جو خام سے پختگی کے سفر
کا لازمی جزو ہیں ۔ مسائل حل کرنے کے لیے ہوتے ہیں ، ان سے مایوسی کشید کرنا کوئی آپشن
نہیں۔ نہ ہی کسی کو یہ اجازت دی جا سکتی ہے کہ وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرے گویا ہم
ہی وہ واحد قوم ہیں جو مسائل سے دوچار ہیں۔ دوسری جانب ان سے بھی دور رہنا لازم ہے
جو سب اچھا پر اصرار کرتے ہیں۔ ان دو انتہاوں کے درمیان کسی مقام پر ہوشمندی جنم لیتی
ہے جو چیلنجز کو سمجھنے کا شعور اور حل کرنے کا حوصلہ بخشتی ہے۔ کوئی کام بھی ایک دن
میں نہیں ہوتا ، ایک فرد کو اپنے اندر تبدیلی لانے کے لیے ایک عمر درکار ہوتی ہے چہ
جائیکہ پوری قوم کا چلن بدلنا ۔ جہد مسلسل سے کم کوئی شے کفایت نہیں کرتی۔ جہد مسلسل
اور نیک نیتی۔
اس
وقت ہم اپنے قومی سفر میں ایک اہم اور ممکنہ طور عہد ساز یا defining moment پرکھڑے ہیں۔ داخلی محاذ پر
بظاہر ایک گنجلک صورتحال کا سامنا ہے۔ تقدس کی دیواریں ڈھے جانے کو ہیں اور خاموشی
کے پیچھے طوفان برپا ہونے کو بے قرار ہیں۔ ریاست کے ستون اور ادارے اس ربط و ہم آہنگی
سے محروم نظر آتے ہیں جو کسی بھی ریاست کی فعالیت کے لیے کلیدی حیثیت کی حامل ہے ۔
باہمی تال میل کی راہ میں روز افزوں بدگمانی حائل ہے ۔ بیرونی دشمن کوئی چال چلنے کے
بجائے یہ دیکھ رہا ہے کہ کب یہ ایک دوسرے کے ہاتھوں زمین دوز ہوں اور وہ اپنا حتمی
داؤ کھیلے۔ بہ ہر حال جو نظر آتا ہے ضروری نہیں وہ واقع بھی ہو کر رہے۔ یہ سب نوشتہ
دیوار تو ہے، نوشتہ تقدیر نہیں۔
اس
وقت کی حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک سہ راہے پر کھڑے ہیں اور تین آپشنز ہمارے سامنے ہیں۔
ان تین میں سے کسی ایک پر عمل کرنا ہی ہوگا ، اور کوئی راستہ نہیں۔
پہلی
آپشن تو یہ ہے کہ حالات جیسے چل رہے ہیں وہ ایسے ہی چلتے رہیں اور جلد یا بدیر اپنے
منطقی انجام کو جا پہنچیں۔ یعنی ٹکراؤ مزید بڑھے اور پھر ہر آنے والے دن کے ساتھ ریاست
زیادہ سے زیادہ غیر فعال ہوتی چلی جائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو گا کہ کمزور مرکزی اتھارٹی
کے باعث اندرونی انتشار بڑھے گا اور طاقت کے بہت سے متوازی مراکز توانا ہونے لگیں گے۔
علاقائی اور لسانی تفریق شدید تر ہو جائے گی اور وفاقی سطح پر مشترک اہداف کے لیے کام
کرنے کا رجحان دم توڑنے لگے گا۔ اس سب میں موجودہ پلئیرز میں سے کسی کے ہاتھ کچھ نہیں
آئے گا اور معاملات جتھوں کی نظر ہونے لگیں گے، نئی قیادت بھی وہیں سے فراہم ہوگی۔
افغانستان میں وار لارڈز کا "نظام" یہی سب کچھ ہے۔ اس طرح کی صورت حال اور
ہمارے ہاں ایک طویل عرصہ سے جاری پراپیگنڈہ کے تناظر میں شاید فوج کے لیے بھی مرکزی
اتھارٹی بحال کرنا ممکن نہ رہے کیونکہ اب اسے بھی ایک فریق کی حیثیت حاصل ہو چکی۔
دوسرا
راستہ یہ ہے کہ تمام "اسٹیک ہولڈرز" آپس میں راضی نامہ کر لیں اور بظاہر
سب ٹھیک ہونے کے پردہ میں لوٹ مار اور کھینچا تانی کا وہی پرانا سسٹم بحال ہو جائے
جو اب تک جاری رہا۔ اس میں ذاتی اور ادارہ جاتی مفادات کا تحفظ تو ہو جاتا ہے لیکن
ملک اور قوم کا کچھ بھی بھلا نہیں ہوگا۔ تجربہ سے یہ بات صاف عیاں ہے کہ اس سب کا بالآخر
انجام وہی ہوتا ہے جو اس وقت ہمارے سامنے ہے۔ اس لیے یہ اب کوئی قابل عمل آپشن نہیں۔
جو وقت ضائع ہو چکا سو ہو چکا، دوبارہ وہی کام کرنا کسی بھی لحاظ سے دانشمند نہیں۔
تیسرا
آپشن یہ ہے کہ ہم بھی من حیث القوم اپنی تاریخ بدلنے کا تہیہ کر لیں اور آج وہ اقدام
لیں جو آج سے سو سال بعد نہ صرف ایک شاندار تاریخ ہو بلکہ ایک سنہرے مستقبل کے امین
بھی ہوں۔ آج ہم جس مقام پر کھڑے ہیں وہاں فیصلہ ساز کٹہرے میں ہیں۔ فیصلہ ساز ہی نہیں،
قانون ساز بھی اور 'عمل ساز' بھی عوام کے سامنے اپنی ساکھ کے بحران سے دو چار ہیں۔
سوشل میڈیا نے اظہار رائے کے روایتی ذرائع پر قریب فیصل کن بالادستی حاصل کر لی ہے۔
اب رائے کو دبانا ناممکن نہیں تو انتہائی مشکل ضرور ہو گیا ہے ۔ آرمی چیف کی سینیٹ
کو بریفنگ ہو یا محترم چیف جسٹس پاکستان کی تقریر، یہ سب اس دباؤ کا پتہ دیتے ہیں جو
ریاست کے سب اداروں پر ہے۔ ہمیں اس صورتحال پر کسی کی مخالفت یا موافقت کرنے یا کسی
ایک کی فتح و شکست کا میدان بنانے کے بجائے یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہم اس سطح تک آن
پہنچے جہاں اس گرم لوہے کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آئین اور قانون کے سانچے میں ڈھال کر
ایک نئی شکل دے دینا ہے۔ یہی موجودہ صورتحال کا بہترین قومی مصرف ہو سکتا ہے.
پاکستان
کو بحیثیت ایک قوم یہ طے کرنا ہے کہ سب کی عزت صرف آئین کی چاردیواری میں ہی محفوظ
رہ سکتی ہے اور تقدس کی چادر صرف کارکردگی ہی اوڑھائے گی۔ نہ کسی کی قوم سے علیحدہ کسی عزت کا کوئی تصور ہے
اور نہ انا کا۔ قوم کی ترقی اور وقار سے ہی سب کو اپنا اپنا حصہ لینا ہے۔
"یہ
لمحہ پاکستان کے لیے تاریخ ساز ثابت ہؤا" ، آئیے ۔۔۔ مؤرخ کو یہ سطر لکھنے کا
موقع دینے کے لیے خود سے بلند ہو کر چند فیصلے کر گزریں۔
ڈاکٹر عاصم اللہ
بخش کی تحریر


0 Comments