تعارف
سورہء فاتحہ
نہ صرف قرآن کریم کی موجودہ ترتیب میں سب سے پہلی سورت ہے، بلکہ یہ پہلی وہ سورت ہے
جو مکمل طور پر نازل ہوئی، اس سے پہلے کوئی سورت پوری نہیں نازل ہوئی تھی، بلکہ بعض
سورتوں کی کچھ آیتیں آئی تھیں۔ اس سورت کو قرآن کریم کے شروع میں رکھنے کی منشاء بظاہر
یہ ہے کہ جو شخص قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرنا چاہتا ہو، اسے سب سے پہلے اپنے خالق
و مالک کی صفات کا اعتراف کرتے ہوئے اس کا شکر ادا کرنا چاہیئے اور ایک حق کے طلب گار
کی طرح اسی سے ہدایت مانگنی چاہیئے۔چنانچہ اس میں بندوں کو وہ دعا سکھائی گئی ہے جو
ایک طالب حق کو اللہ سے مانگنی چاہیئے، یعنی سیدھے راستے کی دعا۔ اس طرح اس سورت میں
صراط مستقیم یا سیدھے راستے کی جو دعا مانگی گئی ہے، پورا قرآن اسکی تشریح ہے کہ وہ
کونسا سیدھا راستہ ہے۔
سورہء فاتحہ
مکی ہے اس میں سات آیتیں اور ایک رکوع ہے
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ - 1:1
شروع اللہ
کے نام سے جو سب پر مہربان ہے، بہت مہربان ہے
عربی قاعدے
کےمطابق "رحمن" کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت وسیع ہو ، یعنی اس
رحمت کا فائدہ سب کو پہنچتا ہو
اور رحیم
کے معنی ہیں وہ ذات جس کی رحمت بہت زیادہ ہو ، یعنی جس پر ہو مکمل طور پر ہو۔اللہ
کی رحمت دنیا میں سب کو پہنچتی ہے ،جس سے مؤمن کافرسب فیض یاب ہو کر رزق پاتے ہیں
، اور دنیا کی نعمتوں سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور آخرت میں اگرچہ کافروں پر رحمت
نہیں ہوگی، لیکن جس کسی پر ہوگی (یعنی مومنوں پر) مکمل ہوگی کہ نعمتوں کے ساتھ کسی تکلیف
کا کوئی شائبہ نہ ہوگا ۔ "رحمن" اور "رحیم" کے معنی میں جو
فرق ہے اسکو ظاہر کرنے کے لئے رحمن کا ترجمہ"سب پر
مہربان"اور رحیم کا
ترجمہ "بہت مہربان"کیا گیا ہے۔
الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ - 1:2
تمام تعریفیں
اللہ کی ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے
اگر آپ کسی
عمارت کی تعریف کریں تو درحقیقت وہ اس کے بنانے والے کی تعریف ہوتی ہے، لہذا اس کائنات
میں جس کسی چیز کی تعریف کی جائے وہ بالآخر اللہ ہی کی تعریف ہے، کیونکہ وہ چیز اس
کی بنائی ہوئی ہے۔ "تمام جہانوں کا پروردگار" کہہ کر اسی طرف اشارہ کیا گیا
ہے۔ انسانوں کا جہان ہو یا جانوروں کا ، جانوروں کا جہان ہو یا نباتات کا ، آسمان کا
جہان ہو یا ستاروں کا ، سیاروں اور فرشتوں کا ،
سب کی تخلیق اور پرورش اللہ تعالی ہی کا کام ہے ، اور ان جہانوں میں جو چیز
قابل تعریف ہے ، وہ اللہ کی تخلیق اور شان ربوبیت کی وجہ سے ہے۔
الرَّحْمَٰنِ
الرَّحِيمِ - 1:3
جو سب پر
مہربان ، بہت مہربان ہے
مَالِكِ يَوْمِ
الدِّينِ - 1:4
جو روز جزا
کا مالک ہے(3)
"روزجزا"
کا مطلب ہے وہ دن جب تمام بندوں کو ان کے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا بدلہ دیا جائے
گا ۔ یوں تو روز جزا سے پہلے بھی کائنات کی ہر چیز کا اصلی مالک اللہ تعالی ہے، لیکن
یہاں خاص طور پر روز جزا کے مالک ہونے کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ دنیا میں اللہ تعالی
نے ہی انسانوں کو بہت سی چیزوں کا مالک بنایا ہوا ہے، یہ ملکیت اگرچہ ناقص اور عارضی
ہے، تا ہم ظاہری صورت کے لحاظ سے ملکیت ہی ہے۔ لیکن قیامت کے دن جب جزا و سزا
کا مرحلہ آئے گا تو یہ ناقص اور عارضی ملکیتیں بھی ختم ہو جائیں گی ، اس وقت ظاہری
ملکیت بھی اللہ تعالی کے سوا کسی کی نہ ہوگی۔
إِيَّاكَ
نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ - 1:5
(اے اللہ!) ہم
تیری ہی عبادت کرتے ہیں ، اور تجھی سے مدد مانگتے ہیں۔
یہاں سے بندوں
کو اللہ تعالی سے دعا کرنے کا طریقہ سکھایا جا رہا ہے، اور اسی کے ساتھ یہ واضح کر
دیا گیا ہے کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی کسی قسم کی عبادت کے لائق نہیں، نیز ہر کام میں
حقیقی مدد اللہ تعالی ہی سے مانگنی چاہیئے، کیونکہ صحیح معنوں میں کارساز اس کے سوا
کوئی نہیں۔دنیا کے بہت سے کاموں میں بعض اوقات کسی انسان سے جو مدد مانگی جاتی ہے ،
وہ اسے کارساز سمجھ کر نہیں ، بلکہ ایک ظاہری سبب سمجھ کر مانگی جاتی ہے۔
اهْدِنَا
الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ - 1:6
ہمیں سیدھے
راستے کی ہدایت عطا فرما۔
صِرَاطَ الَّذِينَ
أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ
ان لوگوں
کے راستے کی جن پر تو نے انعام کیا ہے
غَيْرِ الْمَغْضُوبِ
عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - 1:7
نہ کہ ان
لوگوں کے راستے کی جن پر غضب نازل ہوا ہے ، اور نہ ان کے راستے کی جو بھٹکے ہوئے ہیں۔
(آسان ترجمہء
قرآن از مفتی تقی عثمانی)
Read Mufti Taqi Usmani Sb's poetry by clicking here.




0 Comments