Surah Ibrahim [14:22] - Tafheem-Ul-Quraan - Syed Abul Ala Maududi






اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے ان میں سے کوئی بھی پورا نہ کیا ، 30 میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا ۔ 31 اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری ۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا 32 میں اس سے بری الذّمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے ۔


سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :30 یعنی تمہارے تمام گلے شکوے اس حد تک تو بالکل صحیح ہیں کہ اللہ سچا تھا اور میں جھوٹا تھا ۔ اس واقعے سے مجھے ہرگز انکار نہیں ہے ۔ اللہ کے وعدے اور اس کی وعیدیں ، تم دیکھ ہی رہے ہو کہ ان میں سے ہر بات جوں کی توں سچی نکلی ۔ اور میں خود مانتا ہوں کہ جو بھروسے میں نے تمہیں دلائے ، جن فائدوں کے لالچ تمہیں دیے ، جن خوشنما توقعات کے جال میں تم کو پھانسا اور سب سے بڑھ کر یہ یقین جو تمہیں دلایا کہ اول تو آخرت واخرت کچھ بھی نہیں ہے ، سب محض ڈھکوسلا ہے ، اور اگر ہوئی بھی تو فلاں حضرت کے تصدق سے تم صاف بچ نکلو گے ، بس ان کی خدمت میں نذر و نیاز کی رشوت پیش کرتے رہو اور پھر جو چاہو کرتے پھرو ، نجات کا ذمہ ان کا ، یہ ساری باتیں جو میں تم سے کہتا رہا اور اپنے ایجنٹوں کے ذریعے سے کہلواتا رہا ، یہ سب محض دھوکا تھا ۔

سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :31 یعنی اگر آپ حضرات ایسا کوئی ثبوت رکھتے ہو کہ آپ خود راہ راست پر چلنا چاہتے تھے اور میں نے زبردستی آپ کا ہاتھ پکڑ کر آپ کو غلط راستے پر کھینچ لیا ، تو ضرور اسے پیش فرمائیے ، جو چور کی سزا سو میری ۔ لیکن آپ خود مانیں گے کہ واقعہ یہ نہیں ہے ۔ میں نے اس سے زیادہ کچھ نہیں کیا کہ دعوت حق کے مقابلے میں اپنی دعوت باطل آپ کے سامنے پیش کی ، سچائی کے مقابلہ میں جھوٹ کی طرف آپ کو بلایا ، نیکی کے مقابلہ میں بدی کی طرف آپ کو پکارا ۔ ماننے اور نہ ماننے کے جملہ اختیارات آپ ہی حضرات کو حاصل تھے ۔ میرے پاس آپ کو مجبور کرنے کی کوئی طاقت نہ تھی ۔ اب اپنی اس دعوت کا ذمہ دار تو بلا شبہہ تو میں خود ہوں اور اس کی سزا بھی پا رہا ہوں ۔ مگر آپ نے جو اس پر لبیک کہا اس کی ذمہ داری آپ مجھ پر کہاں ڈالنے چلے ہیں ۔ اپنے غلط انتخاب اور اپنے اختیار کے غلط استعمال کی ذمہ داری تو آپ کو خود ہی اٹھانی چاہیے ۔

 سورة اِبْرٰهِیْم حاشیہ نمبر :32 ”یہاں پھر شرک اعتقادی کے مقابلہ میں شرک کی ایک مستقل نوع یعنی شرک عملی کے وجود کا ایک ثبوت ملتا ہے ۔ ظاہر بات ہے کہ شیطان کو اعتقادی حیثیت سے تو کوئی بھی نہ خدائی میں شریک ٹھیراتا ہے اور نہ اس کی پرستش کرتا ہے ۔ سب اس پر لعنت ہی بھیجتے ہیں ۔ البتہ اس کی اطاعت اور غلامی اور اس کے طریقے کی اندھی یا آنکھوں دیکھے پیروی ضرور کی جا رہی ہے ، اور اسی کو یہاں شرک کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے ۔ ممکن ہے کوئی صاحب جواب میں فرمائیں کہ یہ تو شیطان کا قول ہے جسے اللہ تعالی نے نقل فرمایا ہے ۔ لیکن ہم عرض کریں گے کہ اول تو اس کے قول کی اللہ تعالی خود تردید فرما دیتا اگر وہ غلط ہوتا ۔ دوسرے شرک عملی کا صرف یہی ایک ثبوت قرآن میں نہیں ہے بلکہ اس کی متعدد ثبوت پچھلی سورتوں میں گزر چکے ہیں اور آگے آ رہے ہیں ۔ مثال کے طور پر یہودیوں اور عیسائیوں کو یہ الزام کہ وہ اپنے احبار اور رہبان کو ارباب من دون اللہ بنائے ہوئے ہیں ( التوبہ ۔ آیت ۱۳۷ ) ۔ خواہشات نفس کی بندگی کرنے والوں کے متعلق یہ فرمانا کہ انہوں نے اپنی خواہش نفس کو خدا بنا لیا ہے ( الفرقان ۔ آیت نمبر ٤۳ ) ۔ نافرمان بندوں کے متعلق یہ ارشاد کہ وہ شیطان کی عبادت کرتے رہے ہیں ( یٰسین ۔ آیت ٦۰ ) ۔ انسانی ساخت کے قوانین پر چلنے والوں کو ان الفاظ میں ملامت کہ اذن خداوندی کے بغیر جن لوگوں نے تمہارے لیے شریعت بنائی ہے وہ تمہارے ”شریک“ ہیں ( الشوریٰ ۔ آیت نمبر ۲۱ ) ۔ یہ سب کیا اسی شرک عملی کی نظیریں نہیں ہیں جس کا یہاں ذکر ہو رہا ہے؟ ان نظیروں سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی صرف یہی ایک صورت نہیں ہے کہ کوئی شخص عقیدۃ کسی غیر اللہ کو خدائی میں شریک ٹھیرائے ۔ اس کی ایک دوسری صورت یہ بھی ہے کہ وہ خدائی سند کے بغیر ، یا احکام خداوندی کے علی الرغم ، اس کی پیروی اور اطاعت کرتا چلا جائے ۔ ایسا پیرو اور مطیع اگر اپنے پیشوا اور مطاع پر لعنت بھیجتے ہوئے بھی عملا یہ روش اختیار کر رہا ہو تو قرآن کی رو سے وہ اس کو خدائی میں شریک بنائے ہوئے ہے ، چاہے شرعا اس کا حکم بالکل وہی نہ ہو جو 
اعتقادی مشرکین کا ہے ۔ ( مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو سورہ انعام ، حاشیہ  نمبر 87 و 107ـ الکہف حاشیہ نمبر 50) 

#Surah_Ibrahim
#Al_Quraan




  



Post a Comment

0 Comments

Contact

Name

Email *

Message *