Episode#27 | Khuda Bol Raha Hai | Abu Yahya


خدابول رہا ہے
قسط نمبر27  
اسریٰ وقار کی والدہ سے ملنے اور ان کی طبیعت پوچھنے کے بعد وقار کے کمرے کی طرف آگئی۔ وہ وقار کے گھر اس کی والدہ سے ملنے اکثر آیا کرتی تھی، مگر وقار سے بات نہیں ہوتی تھی۔ وقار نے ہمیشہ خود کواس سے ایک فاصلے پر رکھا تھا۔مگر آج وہ ایک فیصلہ کرکے آئی تھی۔
میں اندر آسکتی ہوں؟
اس نے کمرے میں داخلے کی اجازت چاہی۔ وقار کے کمرے کا دروازہ کھلا تھا اور وہ حسب معمول مطالعہ کر رہا تھا۔
جی ضرور۔
ٍ وقار نے سراٹھاکر اسے سرسری دیکھا اور ہاتھ کے اشارے سے نشست پر بیٹھنے کے لیے کہا۔
وقار صاحب ! میں آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گی۔مجھے آپ سے ایک بات کہنا ہے۔
جی فرمائیے؟ وقار نے کتاب بندکرتے ہوئے کہا۔
میں اب قرآن مجید کو تو سمجھ گئی ہوں۔ میں شاید عام حالات میں قرآن مجید سے اس طرح متاثر نہیں ہوتی، مگر میں نے جن حالات میں قرآن مجید کو پڑھا ،ان میں آپ ہر وقت میرے سامنے تھے جس کے بعد میں نے آپ کے اندر قرآن مجید کا ایک عملی اور زندہ نمونہ پالیا۔ اس عملی نمونے نے میرے لیے بہت آسان کردیا کہ میں قرآن مجید کی بات کو سمجھ سکوں۔ 
اسی وجہ سے برسہا برس سے قائم میری سوچ اب بدل گئی ہے۔
وقار اس کی بات کے جواب میں خاموش رہا۔اس کی خاموشی دیکھ کر اسریٰ نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا۔
ویسے ایک بات بتائیے؟
جی پوچھیے۔
وقار نے دھیرے سے کہا تو اسریٰ نے ایک سوال کیا۔
حضرت خدیجہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو شادی کی پیشکش میں پہل کی تھی۔ کیا یہ کوئی غلط بات تھی؟
نہیں اس میں کوئی غلط بات نہیں تھی۔ عرب کا معاشرہ فطرت پر کھڑا تھا۔فطرت پر کھڑے معاشروں میں فضول اور لایعنی پابندیاں نہیں ہوتیں۔پھر حضور کی شخصیت اتنی بے مثال تھی کہ جب ہماری ماں حضرت خدیجہ کا آپ سے واسطہ پڑا تو آپ بہت زیادہ متاثر ہوگئیں۔ اگر ایک ایسا اعلیٰ انسان سامنے آگیا ہے تو اس سے شادی کے لیے کہنے میں کیا مضائقہ تھا۔ چنانچہ آپ نے خود پہل کرتے ہوئے شادی کا پیغام بھجوادیا جسے حضور نے منظور کرلیا۔
وقار کی بات ابھی پوری ہوئی ہی تھی کہ اسریٰ نے بغیر کسی تمہید کے کہا۔
میرے پاس پیغام بھجوانے کے لیے کوئی نہیں ہے۔ اس لیے براہ راست آپ سے کہہ رہی ہوں کہ میں آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔
وقار اس کی بات پر خاموش ہوگیا۔ کمرے میں مکمل سکوت چھاگیا۔ کچھ دیر بعد وقار کی آواز نے اس سکوت کو توڑا۔
اسریٰ ! آپ قرض ادا کرتے کرتے سود ادا کرنے پر آگئی ہیں۔ سود کھانا ہمارے مذہب میں حرام ہے۔ میں یہ سود نہیں کھاسکتا۔
یہ سود نہیں ہے انویسٹمنٹ ہے۔ میں بزنس وومن ہوں۔ خسارے کا سودا نہیں کرتی۔ جو کررہی ہوں سوچ سمجھ کر کررہی ہوں۔
نہیں اسریٰ ہم دو مختلف دنیاؤں کے لوگ ہیں۔ہمارے درمیان کچھ بھی مشترک نہیں۔
وقار اس کی بات سے بالکل متاثر نہیں ہوا تھا۔ مگر اسریٰ بھی ہار ماننے والی نہ تھی۔اس نے اپنا مقدمہ تفصیل سے وقار کے سامنے رکھا۔
پہلے نہیں تھا۔ مگر اب زاویہ نظر مشترک ہوچکا ہے۔اب میری اپنی دنیا بدل گئی ہے۔میں نے آپ کی شخصیت میں آخرت کا تعارف پالیا ہے۔ لوگ مجھے ہزار لیکچر دیتے، مجھے خدا اور آخرت کی بات سمجھ میں نہیں آتی۔ مگر آپ کی شخصیت نے خدا اور آخرت کا ایسا تعارف کرادیا ہے کہ میں بھی اس فردوس کی خواہشمند ہوچکی ہوں جو آپ کی طلب ہے۔ جس میں انسان اس دنیا سے بے غرض ہوجاتا ہے۔ جو کرتا ہے خدا کے لیے کرتا ہے۔ نہ بدلہ چاہتا ہے نہ احسان جتلاتا ہے۔
یہ سب ٹھیک ہے۔ مگر اس کے لیے اپنی عمر سے پندرہ برس بڑے شخص سے شادی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ کو مجھ سے کہیں بہتر اور اچھے لوگ مل جائیں گے۔
وقار کا جواب ابھی بھی نفی میں تھا۔
میں تو پہلے ہی اپنے سے پندرہ برس بڑی عمر کے شخص ہی سے شادی کا فیصلہ کرچکی تھی۔ اس لیے کہ دنیا میں مجھے سب کچھ مل جائے۔ اب بھی یہی فیصلہ ہے۔ مگر اب اس لیے کہ آخرت میں سب کچھ مل جائے ۔ کیونکہ آپ کا کردار یہ گواہی دے رہا ہے کہ خدا نے جنت میں کوئی بہت اعلیٰ مقام آپ کے لیے تیارکررکھا ہے۔ مجھے تو شادی کرناہی تھی۔ اس لیے اب آپ سے ہی کروں گی۔ چاہے آپ کی مرضی ہو یا نہ ہو۔
یہ کہہ کر اسریٰ کرسی سے اٹھی اور باہر چلی گئی۔ 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسریٰ تو چلی گئی مگر وقار کے لیے ایک پریشانی پیدا کرگئی۔وقار کو اسریٰ سے بس اتنی ہی دلچسپی تھی کہ وہ ایک بہتر انسان بن جائے۔ اس کے اپنے دل میں سونیا کے بعد یہ خواہش ختم ہوچکی تھی کہ وہ دوبارہ اپنا گھر آباد کرے۔رہی اسریٰ تو اس نے اسریٰ کے متعلق ایک لمحے کے لیے بھی اس طرح نہیں سوچا تھا۔اسریٰ ایک ایسی لڑکی تھی جس کے ایک اشارے پر ہزار لوگ شادی کے لیے تیار ہوجاتے۔ مگر ان ہزار لوگوں میں بہرحال وقار شامل نہیں تھا۔
اسے اندازہ تھا کہ اسریٰ کی شخصیت کی اٹھان بالکل مختلف ہے۔ حالات نے ایسے پلٹا کھایا کہ وقار اس کے محسن کی شکل میں اس کے سامنے آگیا۔ وقار کا خیال تھا کہ کچھ احسان اتارنے کے پہلو سے اور کچھ شخصیت کے اثر سے اسریٰ اس سے متاثر ہوئی ہے۔ مگر یہ عارضی سی چیز تھی جسے ختم ہوجانا تھا۔ اسریٰ کی عمر جذبات کی عمر تھی، مگر وہ بہرحال ایک پختہ عمر میں تھا۔ وہ جذبات کا شکار نہیں ہوسکتا تھا۔ اس نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اسریٰ کی بات بالکل نہیں مانے گا۔وہ کسی جذباتی فیصلے کے نتیجے میں اپنی اور اسریٰ کی زندگی خراب نہیں ہونے دے گا۔
اگلی شام کو اسریٰ اس کے گھر آئی اوراس کی والدہ کے کمرے میں کچھ دیر رک کر اس کے کمرے میں آگئی۔ یہ دیکھ کر وقار قدر ے حیران تھا کہ اسریٰ کا حلیہ بالکل بدلا ہوا تھا۔اس نے خلاف معمول شلوارقمیص پہن رکھی تھی جس پر بڑا سا دوپٹہ اچھی طرح اوڑھ رکھا تھا۔ اس نے آتے ہی کہا۔
جب میں آپ سے پہلی دفعہ ملی تھی تو ایسی ہی تھی۔بہت نیک اور شریف۔
وقار نے اسے ایک لمحے کے لیے غور سے دیکھا۔ اس کی شخصیت کا تاثر بالکل مختلف ہوچکا تھا۔وقار نے نظریں جھکاتے ہوئے اس سے دریافت کیا۔
کبھی آپ نے برتن دھوئے ہیں؟
برتن ۔۔۔۔۔۔وہ ذہن پر زور ڈالنے لگی۔
عرصے سے نہیں دھوئے۔ مگر چھوٹی تھی تو امی کبھی کبھی برتن مجھ ہی سے دھلواتی تھیں۔پھر تعلیم کی مصروفیات نے موقع نہیں دیا نہ امی نے کبھی مجھ سے کہا۔
برتن آپ کیسے دھوتی تھیں؟
اس میں تو کوئی راکٹ سائنس نہیں لگتی۔ بس پہلے برتن کو پانی سے گیلا کرتے ہیں۔ پھر صابن سے اسے اچھی طرح صاف کرتے ہیں۔ چکنائی اور میل زیادہ ہوتو اسٹیل وائر یا اسفنج سے برتن کو خوب رگڑ رگڑ کر دھوتے ہیں۔ پھر پانی سے صاف کرلیتے ہیں۔ 
اسریٰ یہ تفصیل بتارہی تھی، مگر اس کی سمجھ میں نہیں آیا کہ اس بے موقع گفتگو کا کیا فائدہ ہے۔
برتن آپ اندر سے دھوتی تھیں یا باہر سے۔
آف کورس ۔ برتن تو اندر ہی سے دھویا جاتا ہے۔ وہ خراب ہی وہا ں سے ہوتا ہے۔ باہر تو بس احتیاطاً صابن لگالیتے ہیں ۔پھر پانی بہاتے ہی وہ صاف ہوجاتا ہے۔ اصل دھونا تو اندر کا ہوتا ہے۔
آپ نے اپنے ظاہر کو بہتر بنایا ۔ یہ اپنی جگہ اچھی بات ہے، مگر انسانی شخصیت بھی ایک برتن کی طرح ہے۔ یہ اندر سے خراب ہوتی ہے۔ ہم لوگ باہر سے صاف کرنے کو صفائی سمجھ لیتے ہیں۔جبکہ قرآن اندر کی صفائی پر نجات کو موقوف قرار دیتا ہے۔
اب اسریٰ کو سمجھ میں آیا کہ وقار اس کی اس بات کا جواب دے رہا ہے کہ حلیہ بدلنے کو وہ نیکی کہہ رہی تھی۔
بھئی آدمی کہیں سے تو آغاز کرتا ہے نا۔آپ مطمئن رہیں ۔ میں نے قرآن کے پیغام کو اچھی طرح سمجھ لیا ہے۔مجھے معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو اندر ہی سے صاف کرنا چاہتے ہیں۔ باہر سے تو وہ بس احتیاطاً برتن دھلواتے ہیں۔ میں اسی لیے آپ سے شادی کرنا چاہتی ہوں کہ میں اپنی روح کو اندر سے دھونا چاہتی ہوں۔
دیکھیے آپ ایک لگژری لائف اسٹائل کی عادی ہیں۔۔۔۔۔۔
وقار نے ایک دوسرے پہلو سے اس کی حوصلہ شکنی کرنا چاہی ، مگراس کے سامنے بھی اپنی دھن کی پکی اسریٰ ہی تھی، اس نے وقار کی بات کو کاٹتے ہوئے ترنت کہا۔
یہ میرا مسئلہ ہے۔اسے چھوڑیے۔ مجھے آپ کا جواب چاہیے۔
میرا جواب یہ ہے کہ میں آپ کو کسی امتحان نہیں ڈالنا چاہوں گا۔ خاص طور پر اس حقیقت کے ساتھ کہ میں دلی طور پر ابھی تک سونیا سے وابستہ ہوں۔
یہ بھی میرا مسئلہ ہے۔ 
اسریٰ نے پورے اعتماد سے کہا ۔ گویا اسے پورا یقین تھا کہ وہ وقار کی زندگی میں آتے ہی سونیا کو نکال پھینکے گی۔
وقار کو محسوس ہوا کہ اسے صاف جواب دینا پڑے گا۔
پھر بھی میرا جواب نفی میں ہے۔میں آپ سے شادی نہیں کروں گا۔ 
ٹھیک ہے۔ آپ کی مرضی۔مگر ہوگا وہی جو میں چاہتی ہوں۔
یہ کہتے ہوئے اسریٰ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے چہرے پر بہت اطمینان تھا۔ ا سے یقین تھا کہ وہ وقار کے انکار کو اقرار میں بدل دے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اسریٰ وقار کے گھر آئی اور سیدھی اس کی والدہ کے کمرے کی طرف چلی گئی۔
اسے دیکھتے ہی وہ کھل اٹھیں۔ اب انھیں اسریٰ کی عادت ہوگئی تھی۔
ارے آج تو تم کتنی پیاری لگ رہی ہو۔ تم ایسے ہی رہا کرو۔ تم ایسے زیادہ اچھی لگتی ہو۔
ان کے تبصرے کا سبب یہ تھا کہ اسریٰ عام طور پر میک اپ نہیں کرتی تھی۔مگر آج وہ کافی بنی سنوری ہوئی تھی ۔دلکش تو وہ پہلے ہی تھی، مگر میک اپ اور زیورات نے اس کی شخصیت میں تازہ کھلے ہوئے پھولوں کا سانکھار پیدا کردیا تھا۔
آپ پہلے کہہ دیتیں تو میں آپ کے پاس ایسے ہی آیا کرتی۔
نہیں بیٹا ہر شخص کی اپنی مرضی ہوتی ہے۔ میں نے تو کبھی اپنی بہو کو اس کی مرضی کرنے سے نہیں روکا تھا۔لیکن چھوڑ و ان باتوں کو یہ بتاؤ تم کیسی ہو؟ میرے دل سے تو تمھارے لیے ہر وقت دعائیں نکلتی ہیں۔
امی! مجھے آپ کی دعاؤں کے ساتھ آپ کی مدد کی بھی ضرورت ہے۔ میں ایک مشکل میں آگئی ہوں۔مجھے آپ کی مددچاہیے۔
اس نے مسکین لہجے میں کہا تو بیگم شمیم تڑپ اٹھیں۔
بولو بیٹا۔ تمھارے لیے تو میری جان حاضر ہے۔
امی آپ کی جان نہیں چاہیے۔ دراصل میں نے جاب چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔میرا اپنا تو کوئی گھر نہیں تھا۔ کمپنی نے گھر دے رکھا تھا۔ میرے والدین بھی نہیں ہیں۔ کوئی بھائی بھی نہیں۔ دو شادی شدہ بہنیں ہیں۔ ان کے گھر تو جاکر رہ نہیں سکتی۔ اب سمجھ میں نہیں آتا کہ کہاں جاکر رہوں۔
اسریٰ نے یہ سب کچھ انتہائی مظلومیت سے رونے والی شکل بناکر کہاتھا۔ اس کی بات پر بیگم شمیم کا دل کٹ کر رہ گیا۔ وہ فوراً بولیں۔
ارے بیٹا۔ تمھیں پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے۔ میرا گھر بھی تمھارا ہی گھر ہے۔ تم فوراً اپنا سامان لے کر یہاں آجاؤ، میرے ہوتے ہوئے تم بے گھر نہیں ہوسکتیں۔
مگر امی یہاں وقار صاحب بھی رہتے ہیں۔ اچھا نہیں لگے گا۔ لوگ باتیں بنائیں گے۔
اسریٰ نے بڑی معصومیت سے ان کے سامنے اپنا مسئلہ نئے زاویے سے رکھا۔
اس کی بات پر وہ اسے تسلی دیتے ہوئے بولیں۔
بیٹا وقار تو کسی عورت کو آنکھ اٹھاکر نہیں دیکھتا۔ میں تو کب سے اس سے شادی کے لیے کہہ رہی ہوں۔ لیکن تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ ایک جوان لڑکی کی موجودگی میں لوگ باتیں توکریں گے۔
اب وہ موقع آگیا تھا کہ اسریٰ ان کے سامنے وہ بات رکھے جس کے لیے وہ یہ سارا دکھڑا بیان کررہی تھی۔وہ کچھ اٹکتے ہوئے بولی۔
امی۔۔۔۔۔۔ آپ اگر وقار صاحب سے ۔۔۔۔۔۔میرا مطلب ہے کہ ۔۔۔۔۔۔اگر ہماری شادی ہوجائے تو۔۔۔۔۔۔میرا مسئلہ بھی حل ہوجائے گا اور ۔۔۔۔۔۔میں آپ کے پاس مستقل رہنے لگوں گی۔
اس کی بات پر بےگم شمیم لمحہ بھر کوپریشان ہوگئیں۔ انھیں اس کی بالکل توقع نہیں تھی کہ اسریٰ یہ بات اتنے صاف انداز میں کہہ دے گی۔ وہ حیران ہوتے ہوئے بولیں ۔ 
مگر بیٹا کہاں تم اور کہاں ۔۔۔۔۔۔
امی مجبوری ہے۔ اب کوئی اور راستہ بھی نہیں ہے نا۔
اسریٰ نے بڑی معصومیت سے ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
لیکن وقار کی والدہ بہرحال بڑی عمر کی خاتون تھیں۔ وہ کچھ نہ کچھ سمجھ گئیں کہ یہ معاملہ مجبوری کا نہیں ہے۔ انھوں نے اسریٰ سے براہ راست سوال کرلیا۔
تم وقار کو پسند کرتی ہو؟
اسریٰ نے خاموشی سے گردن جھکادی۔
تم نے اس سے بات کی؟
انھوں نے اگلا سوال کیا تو اسریٰ نے کہا۔
وہ نہیں مانتے۔
اس پر بیگم شمیم غصے سے بولیں۔
ٹھیک ہے۔ اب میں دیکھتی ہوں وہ نالائق کیسے تم سے شادی سے انکار کرتا ہے۔تم اسے میرے کمرے میں بھیجو اور تھوڑی دیر باہر بیٹھ کر انتظار کرو۔وہ تمھارے پاس آکر خودتم سے کہے گا کہ وہ شادی کے لیے تیار ہے۔

ابو یحییٰ




Post a Comment

0 Comments

Contact

Name

Email *

Message *